جب ہم ترقی، قیادت اور جدت کے امتزاج کی بات کرتے ہیں تو جامعہ سرگودھا کا ذکر سب سے نمایاں نظر آتا ہے، اور اس کامیابی کی کہانی کے سرخیل ہیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان کی دو سالہ قیادت نے جامعہ سرگودھا کو ایک نیا تصور، ایک نیا مقام اور ایک نیا رُخ دیا ہے۔ ان کے وژن، محنت اور انتھک لگن نے علم، تحقیق اور ترقی کے مختلف پہلوؤں کو یوں ساتھ جوڑا ہے کہ جامعہ سرگودھا کا ہر شعبہ ایک نئی روشنی کی مانند روشن نظر آتا ہے۔انہوں نے جامعہ سرگودھا کو محض ایک روایتی علمی ادارے سے بلند کر کے ایک جدید تعلیمی اور تحقیقی مرکز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی، ان کا صاف اور طاقتور وژن ہے، جو نہ صرف ایک نئی روایت کا آغاز کرتا ہے بلکہ وہ ان روایتی سوچوں کو بھی مات دیتا ہے جو ہمارے تعلیمی اداروں کو جمود میں مبتلا رکھتی ہیں۔۔ جہاں ہمارے دیگر ادارے دباؤ، وسائل کی کمی اور بے نظمی کا شکار رہے، وہاں ڈاکٹر قیصر عباس نے ثابت کیا کہ مستقل مزاجی اور درست سمت میں قیادت کیسے کسی ادارے کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتی ہے۔ ان کی قیادت میں جامعہ سرگودھا کے تدریسی، تحقیقی، اور انتظامی شعبوں میں ایسے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں، جنہوں نے اس تعلیمی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔کلاس رومز اور لیبارٹریز کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا تاکہ طلباء کو ایک معیاری تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق کے شعبے میں جامعہ کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے کے اقدامات نے طلباء اور اساتذہ دونوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو گزشتہ کئی دہائیوں سے جن انتظامی چیلنجز اور کارکردگی کے مسائل کا سامنا تھا، انہیں جڑ سے ختم کرتے ہوئے انہوں نے نہایت مہارت سے جامعہ کے انتظامی اور تدریسی شعبوں کی ڈیجیٹلائزیشن کی۔ ناصرف کہ طلبا کو ان کے ریکارڈ اور کلاسز تک آسان رسائی ملی بلکہ انتظامی امور میں شفافیت بھی ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ، کیمپس میں نئی عمارتوں کی تعمیر، پرانی عمارتوں کی تزئین و آرائش اور جدید لائبریریوں اور جِم جیسی سہولیات کا قیام اس بات کا مظہر ہے کہ ڈاکٹر قیصر عباس انفراسٹرکچر پر خرچ کرنے کو ادارے کی بہتری میں سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر قیصر عباس کی قیادت میں ان کی ٹیم، جس میں وقار احمد (ایڈیشنل رجسٹرار)، پرو وی سی پروفیسر میاں غلام یاسین، ڈائریکٹر امپلیمینٹیشن ڈاکٹر ریحانہ علیاس، ڈاکٹر احمد رضا بلال، ڈاکٹر اعظمیٰ شہزادی، ڈاکٹر اعجاز اصغر اور ڈاکٹر عمران غفور شامل ہیں، نے جامعہ سرگودھا نے بین الاقوامی تعلقات کو مستحکم کرنے اور عالمی معیار کے تعلیمی اصول اپنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ چین کی *نانکائی یونیورسٹی* سمیت دیگر ممتاز اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط، طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کے پروگرامز، اور مشترکہ تحقیقی منصوبے اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ ان کی قیادت مستقبل کے تعلیمی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ ان معاہدوں کے ثمرات سے نہ صرف جامعہ کے طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم و تحقیق کے مواقع میسر آئیں گے بلکہ جامعہ سرگودھا نے عالمی سطح پر اپنی ایک منفرد پہچان قائم کرنے میں مدد ملے گی.
ڈاکٹر قیصر عباس کی قیادت میں جامعہ سرگودھا میں ایسی اصلاحات اور اقدامات متعارف کروائے جا رہے ہیں جو جدت اور انفرادیت کے سنگم پر کھڑے ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی معیار کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار بھی کرتے ہیں۔ قابل ذکر اقدامات میں ** جامعہ سرگودھا نے *200 بستروں پر مشتمل ایک جدید تدریسی اسپتال* کی تعمیر کا آغاز کیا ہے۔ یہ اسپتال *ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن* اور *انٹیگریٹڈ میڈیسن* کے ساتھ دیگر جدید شعبوں کی عملی تعلیم کے لیے وقف ہوگا۔ یہاں مقامی سطح پر صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی طب کے میدان میں تحقیقی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ### عالمی معیار کی تعلیمی پالیسیوں کی عکاسی ڈاکٹر قیصر عباس کے یہ اقدامات تعلیم کے شعبے میں ایک مثبت انقلاب لانے کی علامت ہیں۔
ان کی قیادت میں جامعہ سرگودھا نہ صرف تعلیمی میدان میں قومی سطح پر خودمختاری حاصل کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی تعاون کی مثال بن رہی ہے۔ یہ اقدامات طلبہ کی قابلیت کو پروان چڑھانے اور انہیں ایک بہتر اور جدید مستقبل کے لیے تیار کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں. ڈاکٹر قیصر عباس کی زیر قیادت جامعہ سرگودھا میں جاری انقلابی تعلیمی اصلاحات واضح کرتی ہیں کہ یہ ادارہ روایتی تعلیم کے دائرے سے نکل کر ایک جدید اور ہمہ جہت تعلیمی مرکز بننے کے سفر پر گامزن ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل کے تعلیمی منظرنامے کو مزید روشن کریں گے اور جامعہ کو ایک عالمی تعلیمی رہنما کے طور پر سامنے لانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
جامعہ سرگودھا میں تعلیم کو سماج کے فلاحی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والی سوچ بھی ڈاکٹر قیصر عباس کی قیادت کی ایک روشن خصوصیت رہی ہے۔ “مسیحا” جیسی ایپ کا قیام، جو مریضوں کو مفت تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرتی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ علمی ادارے نہ صرف انفرادی ترقی بلکہ اجتماعی فلاح و بہبود میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ہیلتھ سائنسز کے شعبے میں نرسنگ کالجز قائم کر کے مقامی طلباء کو دنیا کی بہترین صحت سے متعلق تعلیم مہیا کرنا ایک اور اہم قدم ہے جس نے معاشرتی خدمت کی ایک نئی راہ کھولی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کے اس دور میں جامعہ سرگودھا کی سولرائزیشن اور درخت لگانے کی مہمات نے مستقبل کے لیے مثبت مثال قائم کی ہے۔ یونیورسٹی میں گرین انرجی کے استعمال کو عام کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف توانائی کے وسائل کی بچت ہو رہی ہے بلکہ یونیورسٹی کیمپس بھی ایک خوشگوار اور ماحول دوست منظر پیش کرتا ہے۔
طلباء کے لیے دوستانہ ماحول کی تشکیل وائس چانسلر کی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ طلباء کی علمی، تحقیقی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے جدید ترین فٹنس سینٹر، کیفےٹیریاز، اور دیگر سہولیات دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، عمرہ اسکیم اور ملازمین کے لیے ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ قیادت صرف تعلیمی معیار ہی نہیں بلکہ سماجی سہولتوں کو بھی اہمیت دیتی ہے۔
آج یہ جامعہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ایک عہد ساز ماڈل کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ ایک ایسی دانش گاہ بن گئی ہے، جس کے کاندھوں پر صرف علم کی ترسیل کا بوجھ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خودمختاری، سائنسی تحقیق، اور نوجوان نسل کی رہنمائی کا بار بھی ہے۔ فارماسیوٹیکل یونٹ، سنترہ تحقیقاتی مرکز، انجینئرنگ ٹیسٹنگ لیبز اور ‘خوشاب منرل واٹر’ جیسے کمرشل منصوبے نہ صرف جامعہ کی مالی ضروریات پوری کر رہے ہیں، بلکہ خودانحصاری کا نیا باب رقم کر رہے ہیں۔ یہی نہیں، ٹیکنالوجی پارکس اور انکیوبیشن سینٹرز نے نوجوانوں کے لیے جدت پر مبنی کاروباری مواقع کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہاں بیٹھا ہوا ایک عام طالب علم آج کے زمانے کے کاروباری تقاضوں کو سمجھ رہا ہے اور ایسا عملی علم حاصل کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کے خوابوں کو حقیقت کے قریب لے آئے گا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی نئی بلندیوں پر پہنچائے گا۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تمام پیش رفت محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے، ایک خواب ہے جسے حقیقت میں بدلنے کے لیے پوری جامعہ نے دن رات ایک کر دیا ہے۔ جامعہ کا ہر شعبہ، ہر طالب علم اور ہر استاد اس خواب کا کردار بن چکا ہے، اور یہی بات اسے دیگر تعلیمی اداروں سے ممتاز کرتی ہے۔
ڈاکٹر قیصر عباس کی قیادت میں جامعہ سرگودھا محض ایک تعلیمی ادارے سے بڑھ کر علم، ترقی اور اختراع کا مرکز بن چکی ہے۔ ان کی دو سالہ قیادت دوسرے اداروں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئی ہے۔ معاشرتی خدمت، عالمی معیار کی تعلیم، اور جدید تحقیق کے امتزاج نے جامعہ سرگودھا کی تاریخ کا ایک ایسا سنہری باب رقم کیا ہے، جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔یہ قیادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر وژن صاف، محنت خالص، اور سمت درست ہو تو کسی بھی ادارے کو نئی بلندیوں پر لے جایا جا سکتا ہے۔ جامعہ سرگودھا اس سفر کے ہر قدم پر مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ آنے والے دن اس ادارے کی ترقی اور کامیابی کے نئے افق روشن کریں گے۔