پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر سمت اندھیرے کے گہرے سائے ہیں۔ سیاست، معیشت اور سماج، تینوں شعبے بگاڑ کی لپیٹ میں ہیں۔ ہم ایک ایسی کشتی میں سوار ہیں جس کا ملاح خوابوں میں گم ہے، اور پانی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ہمارے مقدر کا کھیل ہے، یا ہم خود ان حالات کے ذمہ دار ہیں؟
ہمارے سیاسی منظرنامے کو دیکھ لیجیے۔ ہر طرف مہمل بیانات، جھوٹے وعدے، اور الزام تراشیوں کا میلہ لگا ہوا ہے۔ سیاست دانوں کی نئی نسل بھی وہی پرانی کمزوریوں اور حرص و ہوس کا شکار ہے جو ان کے پیشروؤں میں تھیں۔ ہم نہیں جانتے کہ حکومت میں کون آیا تو کیا کرے گا، لیکن ہمیں یہ یقین ضرور ہے کہ جانے والا اپنی ناکامیوں کی بڑی فہرست چھوڑ کر جائے گا۔ آج “سچ” صرف ایک سیاسی نعرہ بن چکا ہے، اور “غلط” وہی ہے جو دوسرا کہتا ہے۔ ایسے میں عوام کہاں جائیں؟ وہ کس پر اعتماد کریں؟
معیشت اس وقت ایک ایسے آتش فشاں پر کھڑی ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ڈالر کی قیمت آسمانوں کو چھو رہی ہے، مہنگائی عام آدمی کے لیے ایک عذاب بن چکی ہے، اور بیروزگاری کا جن روز بروز پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ کیا ہم ایک ایسی قوم بن چکے ہیں جو صرف قرض لے کر ہی زندہ رہ سکتی ہے؟ قرضے کا ہر نیا معاہدہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے زنجیروں کا ایک اور حلقہ تیار کرتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ سوچنے کی فرصت کہاں؟ ہم آج کی روٹی کے لیے لڑ رہے ہیں، کل کس نے دیکھا؟
سماج بھی اسی ابتری کا شکار ہے۔ عدم برداشت ہماری شناخت بنتی جا رہی ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے اختلاف کو بھی ذاتی دشمنی یا سازش سمجھا جاتا ہے۔ ہم نے اپنے رویوں میں اتنا زہر بھر لیا ہے کہ اب محبت اور اتحاد کی جگہ تشدد اور نفرت نے لے لی ہے۔ ایسے معاشرے میں ترقی کیسی؟ جب ہر شخص اپنے دائرے میں مقید ہو اور دوسرے کی فکر کرنا گناہ سمجھا جائے۔
پچھلے چند ہفتوں میں عدلیہ، سیاست اور اداروں کی آپسی کھینچا تانی نے ہمارے قومی ڈھانچے کو اور زیادہ کمزور کر دیا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا تھا، لیکن ہر کوئی اپنی ذات کے گرد ہی سیاست کر رہا ہے۔ دشمن سرحد کے پار نہیں، اندر ہے۔ وہ ہمارا انتشار، ہماری نااتفاقی اور ہماری کمزوریاں ہیں۔
ہمیں راستہ تبدیل کرنا ہوگا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ اس ملک کا سماجی اور سیاسی نظام ایک مکمل ری سیٹ کا متقاضی ہے۔ شفافیت، انصاف، اور احتساب وہ ستون ہیں جن کے بغیر یہ عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ہمیں پاکستان کو بچانا ہے تو ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ خواب دیکھنا کافی نہیں؛ ہمیں اپنی زمین کو زرخیز بنانے کے لیے محنت کرنا ہوگی۔
یہ وقت اتحاد کا ہے، وقت اس بات کا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو دوبارہ حاصل کریں۔ ورنہ شاید تاریخ ہمارے نام کے ساتھ وہی کرے جو وہ ان قوموں کے ساتھ کرتی ہے جو فقط شکایات کرتی رہیں اور عمل کرنا بھول گئیں۔
***”اندھیرے لمبے ضرور ہیں، لیکن اگر ہم چراغ جلانے کا فیصلہ کر لیں، تو روشنی خود اپنا راستہ بنا لے گی-